قباحت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خرابی، برائی، نقص، عیب۔ "معاشرے اور فرد کے مسائل کا ہم معنی ہونے میں کیا قباحت محسوس کی جا سکتی ہے۔"      ( ١٩٨٣ء، حصار، ١١ ) ٢ - حرج، مضائقہ، رکاوٹ، تردد۔ "وہ ادب کا ایک حصہ اور ادب کی ایک صنف ہے جس کے چھپنے میں اب کیا قباحت رہ جاتی ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، کیسے کیسے لوگ، ١٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے معنی و ساخت کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خرابی، برائی، نقص، عیب۔ "معاشرے اور فرد کے مسائل کا ہم معنی ہونے میں کیا قباحت محسوس کی جا سکتی ہے۔"      ( ١٩٨٣ء، حصار، ١١ ) ٢ - حرج، مضائقہ، رکاوٹ، تردد۔ "وہ ادب کا ایک حصہ اور ادب کی ایک صنف ہے جس کے چھپنے میں اب کیا قباحت رہ جاتی ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، کیسے کیسے لوگ، ١٠ )

اصل لفظ: قبح
جنس: مؤنث