قبح

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - عیب، نقص، خرابی، بدشکل یا بھونڈا ہونا، بد صورتی، برائی، کراہیت۔ "اسی زمانے کے مشہور شاعروں کے کلام کو معیار قرار دے کر ہم متاخرین کے کلام کے حسن و قبح پر حکم لگا سکتے ہیں"۔      ( ١٩٨٧ء، نگار (سالنامہ)، کراچی، ٢٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٦٧٢ء کو "کلیات شاہی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عیب، نقص، خرابی، بدشکل یا بھونڈا ہونا، بد صورتی، برائی، کراہیت۔ "اسی زمانے کے مشہور شاعروں کے کلام کو معیار قرار دے کر ہم متاخرین کے کلام کے حسن و قبح پر حکم لگا سکتے ہیں"۔      ( ١٩٨٧ء، نگار (سالنامہ)، کراچی، ٢٤ )

جنس: مذکر