قبول
معنی
١ - اقرار، تسلیم، منظور۔ "اپنی تہذیبی اوضاع کے معیار پر رکھ کر رد یا قبول کر سکتا ہے۔" ( ١٩٨٥ء، ترجمہ: روایت اور فن، ٦٧ ) ٢ - قبولیت، اجابت (دُعا وغیرہ کی)۔ کہاں کی فکر اجابت کہاں کا ذکر قبول مصیبتوں میں کچھ اندازۂ دُعا نہ رہا ( ١٩٤ء، نوائے دِل، ٦١ ) ٣ - مقبولیت، پسند کرنا۔ "چونکہ عوام باطبع اس غذا کے خواہاں ہیں بغیر کسی دقت کے ان کو قبول عام بھی حاصل ہو گیا۔" ( ١٩١٣ء، مضامینِ ابوالکلام آزاد، ٦٦ ) ٤ - رضامندی، ماننا۔ "جس زبان میں "ایجاب" ہوا ہو گا اسی زبان میں قبول بھی ہو گیا ہو گا۔" ( ١٩٢٦ء، مضامین شرر، ١، ٤٥٠:٢ ) ٥ - لینا؛ اخذ کرنا۔ عالم نے یہاں قبول و رد کو جانا دیکھا دنیا کو نیک و بد کو جانا ( ١٩٢١ء، کلیاتِ اکبر، ٤٠١:٣ ) ٦ - علم نجوم کی ایک اصطلاح۔ قبول قوت کیواں ہے ہشتم! نہ ہو صحبت سے میری رنج کش تم ( ١٨٥١ء، کلیاتِ مومن، ٣٨٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں معنی و ساخت کے اعتبار سے من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اقرار، تسلیم، منظور۔ "اپنی تہذیبی اوضاع کے معیار پر رکھ کر رد یا قبول کر سکتا ہے۔" ( ١٩٨٥ء، ترجمہ: روایت اور فن، ٦٧ ) ٣ - مقبولیت، پسند کرنا۔ "چونکہ عوام باطبع اس غذا کے خواہاں ہیں بغیر کسی دقت کے ان کو قبول عام بھی حاصل ہو گیا۔" ( ١٩١٣ء، مضامینِ ابوالکلام آزاد، ٦٦ ) ٤ - رضامندی، ماننا۔ "جس زبان میں "ایجاب" ہوا ہو گا اسی زبان میں قبول بھی ہو گیا ہو گا۔" ( ١٩٢٦ء، مضامین شرر، ١، ٤٥٠:٢ )