قبیلہ

قسم کلام: اسم ظرف مکاں ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - ایک جد کی اولاد، خاندان ایک نسل کے آدمیوں کی جماعت۔ "ان قبیلوں کو آپس میں دوست کر دیا جو ایک دوسرے کو فنا اور برباد کرنے پر آمادہ تھے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٣٢ ) ٢ - گروہ، جتھا۔ "اطہر نفیس اور ان کے قبیلے کے دیگر شعرا کا کلام کا اور اک ہمارے دور کے . نمائندہ فرد کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، توازن، ٢٥٤ ) ٣ - نوع، جنس، شے۔ "جس کیفیت کی میں تعبیر کر رہا ہوں یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ تصور یا تصدیق کے قبیلے کی یہ کوئی چیز ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ٣٤٨ ) ٤ - بیوی، جورو۔ "ڈھائی بوتل روز کا تو میرے یہاں خرچ ہے لالہ ایک میں پیتا ہوں ایک قبیلہ چڑھاتی ہیں۔"      ( ١٨٩٤ء، ہشو، ٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٢٥ء کو "سیف الملوک و بدیع الجمال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک جد کی اولاد، خاندان ایک نسل کے آدمیوں کی جماعت۔ "ان قبیلوں کو آپس میں دوست کر دیا جو ایک دوسرے کو فنا اور برباد کرنے پر آمادہ تھے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٣٢ ) ٢ - گروہ، جتھا۔ "اطہر نفیس اور ان کے قبیلے کے دیگر شعرا کا کلام کا اور اک ہمارے دور کے . نمائندہ فرد کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، توازن، ٢٥٤ ) ٣ - نوع، جنس، شے۔ "جس کیفیت کی میں تعبیر کر رہا ہوں یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ تصور یا تصدیق کے قبیلے کی یہ کوئی چیز ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ٣٤٨ ) ٤ - بیوی، جورو۔ "ڈھائی بوتل روز کا تو میرے یہاں خرچ ہے لالہ ایک میں پیتا ہوں ایک قبیلہ چڑھاتی ہیں۔"      ( ١٨٩٤ء، ہشو، ٨ )

اصل لفظ: قبل