قحط

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خُشک سالی؛ کال۔ "میں نے بنگال کا قحط دیکھا اور تڑپ اُٹھا۔"      ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٨٨ ) ٢ - [ مجازا ]  کسی چیز کی کم یابی بلکہ نایابی کے لیے مستعمل۔ "اس موقع پر جبکہ پنجاب میں پہلے ہی پانی کا قحط ہے . اس کے وسیع رقبوں کو نہری پانی سے محروم کر دینا سراسر زیادتی بلکہ ظلم ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٤٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں بمعنی و ساخت من و عن داخل ہوا اور اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٦٥کو "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خُشک سالی؛ کال۔ "میں نے بنگال کا قحط دیکھا اور تڑپ اُٹھا۔"      ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٨٨ ) ٢ - [ مجازا ]  کسی چیز کی کم یابی بلکہ نایابی کے لیے مستعمل۔ "اس موقع پر جبکہ پنجاب میں پہلے ہی پانی کا قحط ہے . اس کے وسیع رقبوں کو نہری پانی سے محروم کر دینا سراسر زیادتی بلکہ ظلم ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٤٤ )

اصل لفظ: قحط
جنس: مذکر