قدس

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - طہارت، پاکی، پاک، پاکیزگی۔  تھا جو موسٰی کے لیے برق سرطور وہ نور پردہ قدس میں جو نور تھا مستور وہ نور      ( ١٩٣١ء، محب، مراثی، ٢٢ ) ٢ - بیت المقدس مقام ہیکل۔ "عیسائیوں میں متعدد فرقے ہیں جو اپنے اپنے حساب سے قدس کے حج کو آتے ہیں۔"      ( ١٩١١ء، روزنامہ باتصویر، حسن نظامی، ٩٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں بطور اسم ہی مستعمل ہے۔ ١٦٥٢ء میں "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - بیت المقدس مقام ہیکل۔ "عیسائیوں میں متعدد فرقے ہیں جو اپنے اپنے حساب سے قدس کے حج کو آتے ہیں۔"      ( ١٩١١ء، روزنامہ باتصویر، حسن نظامی، ٩٢ )

اصل لفظ: قدس
جنس: مؤنث