قدم

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پانو (انگوٹھے کے سرے سے ایڑی کے کنارے تک) پا۔  جب قدم بسمل نے قاتل کی حد سے پار رکھ دیا پانو پر سر رکھ دیا یا پانو سر پر رکھ دیا      ( ١٨٩٥ء، دیوان راسخ دہلوی، ٣٣ ) ٢ - وہ فاصلہ جو رفتار کی حالت میں دوپیروں کے درمیان ہو، گام۔ "اس مقصد کے حصول کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ انہیں تعلیم دی جائے۔"      ( ١٩٤١ء، ہماری غذا (پیش لفظ)، ٧ ) ٣ - آمد، آنا جانا، آمدورفت (گھوڑے، بیوی یا کسی کے آنے کا شگون)۔ "بہو کا قدم ہمارے گھر میں مبارک ہوا۔"      ( ١٩٢٩ء، نوراللغات، ٦٢٢:٢ ) ٤ - پیروں کا تلوا۔  دوسرے عالم میں ہوں "دنیا" سے میری جنگ ہے "تاج شاہی" سے "قدم" بھی مس کروں تو ننگ ہے      ( ١٩٢٠ء، روحِ ادب، ١٩ ) ٦ - گھوڑے کی وہ تیز اور بے تکان چال جس میں اگلے اور پچھلے پانْو کی حرکت برابر ہو، اس سے سوار کو تکان نہیں ہوتی۔  غرض دوڑ، سرپٹ، قدم اور چال ہر اک اسپ کے دیکھے یہ سب کمال      ( ١٨٩٣ء، صدق البیان، ١٢٦ ) ٧ - [ مجازا ]  ذات، دم، واسطہ (عوماً سے کے ساتھ)۔  رونق تھی بہت دشت میں کچھ اپنے قدم سے ویرانے کئی روز سے سنان بہت ہیں      ( ١٩١١ء، دیوان ظہیر، ٨٧:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں معنی و ساخت کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا اور اسم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - وہ فاصلہ جو رفتار کی حالت میں دوپیروں کے درمیان ہو، گام۔ "اس مقصد کے حصول کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ انہیں تعلیم دی جائے۔"      ( ١٩٤١ء، ہماری غذا (پیش لفظ)، ٧ ) ٣ - آمد، آنا جانا، آمدورفت (گھوڑے، بیوی یا کسی کے آنے کا شگون)۔ "بہو کا قدم ہمارے گھر میں مبارک ہوا۔"      ( ١٩٢٩ء، نوراللغات، ٦٢٢:٢ ) ٤ - پیروں کا تلوا۔  دوسرے عالم میں ہوں "دنیا" سے میری جنگ ہے "تاج شاہی" سے "قدم" بھی مس کروں تو ننگ ہے      ( ١٩٢٠ء، روحِ ادب، ١٩ )

اصل لفظ: قدم
جنس: مذکر