قدیم

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پُرانا، پُرانے زمانے کا۔ "گھر قدیم وضع کا تھا مگر پانچ سو سال پرانا ہرگز نہ لگتا تھا۔"      ( ١٩٨٣ء، خانہ بدوش، ٤٢٨ ) ٢ - جس کی کوئی ابتدا نہ ہو، ہمیشہ کا، ازلی، جس سے پہلے عدم یا حدوث نہ ہو۔  ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم اُمتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات      ( ١٩٣٨ء، ارمغانِ حجاز، ٢٢٧ ) ٣ - ازلی و ابدی، سرمدی۔ "وجود میں بھی اور قدیم ہونے میں بھی وہ تنہا ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ١ ) ٤ - آبائی، جدی، موروثی۔ "اتفاق دیکھیے کہ پرانے قدیم کاغذات میں مجھ کو حکیم مومن خان مومن دہلوی کی ایک قلمی تصویر ملی۔"      ( ١٩٢٨ء، مضامین فرحت، ١٣٣:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں معنی و ساخت کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا اور بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پُرانا، پُرانے زمانے کا۔ "گھر قدیم وضع کا تھا مگر پانچ سو سال پرانا ہرگز نہ لگتا تھا۔"      ( ١٩٨٣ء، خانہ بدوش، ٤٢٨ ) ٣ - ازلی و ابدی، سرمدی۔ "وجود میں بھی اور قدیم ہونے میں بھی وہ تنہا ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ١ ) ٤ - آبائی، جدی، موروثی۔ "اتفاق دیکھیے کہ پرانے قدیم کاغذات میں مجھ کو حکیم مومن خان مومن دہلوی کی ایک قلمی تصویر ملی۔"      ( ١٩٢٨ء، مضامین فرحت، ١٣٣:١ )

اصل لفظ: قدم