قرابت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خونی رشتہ، خویشی، رشتہ داری، نسبی نزدیکی۔ "اسلامی قانون کے تحت تقسیم جائداد کے قواعد و ضوابط کا انحصار صرف قرابت (رشتہ بذریعہ خون) ہی پر ہی نہیں ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، معاشیات ہند (ترجمہ)، ١٧٥:١ ) ٢ - قربت، نزدیکی، ظاہری و باطنی قربت۔ نزدیکی تعلق۔  جلائے گا مجھے رشک قرابت کے قرینے سے کھڑا دیکھا کروں گا میں تو وہ لپٹے گا سینے سے      ( ١٩٢١ء، گورکھ دھندا، ٣٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٧٨ء کو "کلیات غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خونی رشتہ، خویشی، رشتہ داری، نسبی نزدیکی۔ "اسلامی قانون کے تحت تقسیم جائداد کے قواعد و ضوابط کا انحصار صرف قرابت (رشتہ بذریعہ خون) ہی پر ہی نہیں ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، معاشیات ہند (ترجمہ)، ١٧٥:١ )

اصل لفظ: قرب
جنس: مؤنث