قرار

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - آرام، چین، سکون، راحت۔  اُس طرف شوخیوں میں بھی تمکیں اس طرف اضطراب میں بھی قرار      ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ١٩٢ ) ٢ - ثبات، ٹھہراؤ، قیام۔ "دنیا کی کسی حالت کو قرار نہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٢٦ ) ٣ - اقرار، عہد، پیمان۔  گھڑ والیے ہیں خوئے اسیری نے کچھ صنم جھوٹا قرار جن سے کیا ہے نباہ کا      ( ١٩٥٨ء، تارِ پیراہن، ١٦١ ) ٤ - طے شدہ صورت حال، کسی امر کے مقرر کرنے یا کیے جانے کا عمل، طے پانا۔ "تمام داستان خود مصنف کے قول و قلم سے ایک فرضی افسانہ قرار پاتی ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، افسنۂ پدمنی، ٢٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں معنی و ساخت کے لحاظ سے بعینہ داخل ہوا اور اسم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیاتِ قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ثبات، ٹھہراؤ، قیام۔ "دنیا کی کسی حالت کو قرار نہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٢٦ ) ٤ - طے شدہ صورت حال، کسی امر کے مقرر کرنے یا کیے جانے کا عمل، طے پانا۔ "تمام داستان خود مصنف کے قول و قلم سے ایک فرضی افسانہ قرار پاتی ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، افسنۂ پدمنی، ٢٥ )

اصل لفظ: قرر
جنس: مذکر