قراری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - قرار، اقراری، منسوب بہ قرار۔  ہوا شادماں بہت اس دل منے قراری لیا ٹک او کراونے      ( ١٧٤٦ء، قصہ فغفور چین، ١٢ ) ١ - پائدار، برقرار رہنے والا۔  بہار دیکھی اور اس باغ کی خزاں دیکھی کوئی بھی رنگ قراری نہیں زمانے کا      ( ١٧٨٠ء، گل عجائب، ١٦٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قرار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ نسبت لگانے سے لفظ 'قراری' بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم مستعمل ہے ١٦٩٢ء میں "دیوان ہاشمی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: قرر