قرب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نزدیکی (ظاہری، باطنی، زمانی یا مکانی)، نزدیک آنا، قربت (بعد کی ضد)۔  کبھی جو قرب میں جاگی بدن کی سچائی تو اپنے آپ سے ڈرنا اسی کو آتا تھا    ( ١٩٨٨ء، آنگن میں سمندر، ٧٥ ) ٢ - نزدیکی پہنچ، رسائی۔  معانی تے تس قرب مرداں کوں دے سکت جنگ جوئی کا گرداں کوں دے    ( ١٦٦٥ء، علی نامہ، ١٠ ) ٤ - مرتبہ، منزلت۔  ہر ایک حال خدا کوں یقین سوں جپنا ولایت ہور ثبوت یو قرب ہے اپنا      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٧ ) ١ - قرب، نزدیک۔  محل یار تک اے دل خدا چو پہنچا دے جگہ نشست کو گر پڑ کے قربِ در لینا      ( ١٨٧٠ء، دیوانِ آغا حجو شرف، ٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں بمعنی و ساخت من و عن داخل ہوا اور بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٤٢١ء کو "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: قرب
جنس: مذکر