قرق

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - جرمانے، قرضے کی وصولیابی کے لیے کسی کے مال یا جائیداد کو نیلام کرنے کی غرض سے سرکاری تحویل میں لینا، ضبطی۔ "مکان کو کیوں قرق کر رکھا ہے"۔    ( ١٩٣٩ء، آئین اکبری(ترجمہ)، ٤٠٦:٢ ) ٢ - جو شے حاکم کی ضبطی میں آ جائے اسے قرق کہتے ہیں۔ ٣ - روک، بندش،۔ کسی امر یا شے کی ممانعت۔ "لو صاحب ہمارا اسباب، جائے اور ہمیں پر یہ قرق"۔      ( ١٩١٥ء، طرح دار لونڈی، سجاد حسین، ٥٩ )

اشتقاق

ترکی زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ ١٨٠٢ء کو "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جرمانے، قرضے کی وصولیابی کے لیے کسی کے مال یا جائیداد کو نیلام کرنے کی غرض سے سرکاری تحویل میں لینا، ضبطی۔ "مکان کو کیوں قرق کر رکھا ہے"۔    ( ١٩٣٩ء، آئین اکبری(ترجمہ)، ٤٠٦:٢ ) ٣ - روک، بندش،۔ کسی امر یا شے کی ممانعت۔ "لو صاحب ہمارا اسباب، جائے اور ہمیں پر یہ قرق"۔      ( ١٩١٥ء، طرح دار لونڈی، سجاد حسین، ٥٩ )

جنس: مؤنث