قریب
معنی
١ - پاس، نزدیک۔ وہ کہ صحرا سے جنھیں دور کی نسبت بھی نہیں گھر بنانے چلے آئے ہیں مرے گھر کے قریب ( ١٩٨٨ء، آنگن میں سمندر، ١٣٣ ) ١ - نزدیک کا رشتہ دار یا پڑوسی۔ قریبوں کے لیے اہل سخا بھی بخل کرتے ہیں کبھی سیراب کرتا ہے کوئی دریا کنارے کو ( ١٨٩٦ء، تجلیات عشق، ٢٣٧ ) ٢ - [ عروض ] ایک بحر جس کی اصل مفاعلین مفاعلین فاع لاتن دو بار ہے۔" "چونکہ اس بحر کے ارکان بحر مضارع و بحر ہزج کے قریب قریب ہیں اس لیے اس کو قریب بھی کہتے ہیں۔" ( ١٨٨١ء، بحرالفصاحت، ٢٦٦ ) ٣ - [ منطق ] قریب وہ جنس ہے جو اپنے ہر فرد کے جواب میں محمول ہو جیسے : حیواں۔ (المنطق، 10) ١ - لگ بھگ، تقریباً۔ "کہیں ایک بجے کے قریب بھاوج کو سمجھا بجھا کر ساتھ لے کر آئی۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٩٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم، صفت اور گاہے متعلق فعل بھی استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٨ء کو "چندر بدن و مہیار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ عروض ] ایک بحر جس کی اصل مفاعلین مفاعلین فاع لاتن دو بار ہے۔" "چونکہ اس بحر کے ارکان بحر مضارع و بحر ہزج کے قریب قریب ہیں اس لیے اس کو قریب بھی کہتے ہیں۔" ( ١٨٨١ء، بحرالفصاحت، ٢٦٦ ) ١ - لگ بھگ، تقریباً۔ "کہیں ایک بجے کے قریب بھاوج کو سمجھا بجھا کر ساتھ لے کر آئی۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٩٨ )