قرین
معنی
١ - پاس، نزدیک، قریب۔ تو سنے دل کی صدا تو ہے شہ رگ کے قریں ( ١٩٧١ء، زاد سفر، باقی صدیقی، ٥٧ ) ٢ - ملا ہوا، ملحق۔ "میں اسے اپنی طرف منسوب کرنا جائز و قرین دیانت نہیں سمجھتا"۔ ( ١٩٥٨ء، شاد کی کہانی شاد کی زبانی، ٥ ) ٣ - مثل، مانند (عموماً فارسی مرکبات میں)۔ گریہ آفت قریں کو مدعا سے کیا غرض ناز حسرت نشاں کو کام کیا تاثیر سے ( ١٩٥٠ء، ترانہ وحشت، ١٠٣ ) ١ - ہم نشیں، دوست۔ مے پی کے سونا ہے تجھے زیر زمیں دشمن نہ وہاں دوست نہ مونس نہ قریں ( ١٩٨٥ء، دستِ زر افشاں، ٩٦ )
اشتقاق
عربی زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ ١٧٨٢ء کو "دیوان محبت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - ملا ہوا، ملحق۔ "میں اسے اپنی طرف منسوب کرنا جائز و قرین دیانت نہیں سمجھتا"۔ ( ١٩٥٨ء، شاد کی کہانی شاد کی زبانی، ٥ )