قرینہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ایک چیز کی دوسری چیز سے پیوستگی یا مناسبت یا قربت، باہمی تعلق۔ "تصریحات لغت کے علاوہ تاریخی قرینہ نہایت قوی موجود ہے۔"    ( ١٩٠٤ء، مقالاتِ شبلی، ٢٢٩:١ ) ٢ - قیاس، اندازہ، علامت۔ "قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹوٹ گیا ہو گا اس لیے تاروں سے جوڑ دیا ہو گا۔"    ( ١٩١٤ء، سیرت النبیۖ، ٢٠٢:٢ ) ٣ - ڈھنگ، وضع، طور طریق، انداز، علامت، طریقہ۔  صرف تھوڑا سا ملاوٹ کا قرینہ چاہیے چائے کی پتی سے کٹ سکتا ہے بندے کا جگر      ( ١٩٨٦ء، قطع کلامی، ١٠٧ ) ٤ - موزونیت، سلیقہ، ترتیب۔ "انھوں نے . زندگی میں امکان کی حد تک ایک قرینہ اور ترتیب پیدا کرنے کی کوشش کی۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٩٧ ) ٥ - حقے کے نیچے کی چھوٹی لکڑی جس کے ذریعے دھواں حقے میں جا کر نیچے سے باہر نکلتا ہے۔ "حقے کے اجزا اور اسباب کے نام یہ ہیں . قرینہ۔"      ( ١٨٤٨ء، توصیفِ زراعات، ١٣٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں حقیقی معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٦٥ء کو "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک چیز کی دوسری چیز سے پیوستگی یا مناسبت یا قربت، باہمی تعلق۔ "تصریحات لغت کے علاوہ تاریخی قرینہ نہایت قوی موجود ہے۔"    ( ١٩٠٤ء، مقالاتِ شبلی، ٢٢٩:١ ) ٢ - قیاس، اندازہ، علامت۔ "قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹوٹ گیا ہو گا اس لیے تاروں سے جوڑ دیا ہو گا۔"    ( ١٩١٤ء، سیرت النبیۖ، ٢٠٢:٢ ) ٤ - موزونیت، سلیقہ، ترتیب۔ "انھوں نے . زندگی میں امکان کی حد تک ایک قرینہ اور ترتیب پیدا کرنے کی کوشش کی۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٩٧ ) ٥ - حقے کے نیچے کی چھوٹی لکڑی جس کے ذریعے دھواں حقے میں جا کر نیچے سے باہر نکلتا ہے۔ "حقے کے اجزا اور اسباب کے نام یہ ہیں . قرینہ۔"      ( ١٨٤٨ء، توصیفِ زراعات، ١٣٤ )

اصل لفظ: قرن
جنس: مذکر