قزاقی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - لوٹ مار، غارت گری۔ "اپنی مفسدانہ طبیعت کی بنا پر پھر سے قزاقی . کو اپنا پیشہ بنا لیا۔"      ( ١٩٨٦ء، سندھ کا مقدمہ، ١١٣ )

اشتقاق

ترکی زبان سے ماخوذ اسم 'قزاق' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے اسم 'قزافی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٧٩ء میں "دیوان شاہ سلطان ثانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لوٹ مار، غارت گری۔ "اپنی مفسدانہ طبیعت کی بنا پر پھر سے قزاقی . کو اپنا پیشہ بنا لیا۔"      ( ١٩٨٦ء، سندھ کا مقدمہ، ١١٣ )

اصل لفظ: قَزّاق
جنس: مؤنث