قسم

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کوئی مقدس نام لے کر یا کسی چیز کی سوگند کھا کر کسی امر کا یقین دلانے یا عہد و پیمان کرنے کا عمل، سوگند، حلف۔ "نہ عزت نہ پیسہ قسم اللہ پاک کی میں تانگہ کبھی نہ جوتتا۔"      ( ١٩٨٧ء، آخری آدمی، ١١٣ ) ٢ - کسی چیز کے استعمال نہ کرنے کی قسم کھا لینا، حرام ہونا۔  دیکھنا بھی ہے قسم چاہے کوئی سر پھوڑے!اس قدر اچھا نہیں اے شوخ بے پروا دماغ      ( ١٩٠٠ء، دیوان حبیب، ١٢٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب کا مصدر ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیاتِ ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کوئی مقدس نام لے کر یا کسی چیز کی سوگند کھا کر کسی امر کا یقین دلانے یا عہد و پیمان کرنے کا عمل، سوگند، حلف۔ "نہ عزت نہ پیسہ قسم اللہ پاک کی میں تانگہ کبھی نہ جوتتا۔"      ( ١٩٨٧ء، آخری آدمی، ١١٣ )

اصل لفظ: قسم
جنس: مؤنث