قشقہ
معنی
١ - پیشانی پر صندل یا زعفران کے دو نشانات، ٹپکا، تلک جو ہندو ماتھے پر لگاتے ہیں۔ "ایک حسین صبیح پیشانی پر کچھ صندل ہی کا قشقہ لطف دیتا ہے۔" ( ١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری شخصیت اور فکر و فن، ٣٥ ) ٢ - گھوڑے کے چہرے کی سفید لکیر۔ راس سے راس اور ذنب کی دم قشقہ عقدہ کا اور قطب کا سم ( ١٨٤١ء، زینت الخیل، ٤ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں اصل حالت اور اصل معنی میں مستعمل ہے ١٧١٨ء میں "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پیشانی پر صندل یا زعفران کے دو نشانات، ٹپکا، تلک جو ہندو ماتھے پر لگاتے ہیں۔ "ایک حسین صبیح پیشانی پر کچھ صندل ہی کا قشقہ لطف دیتا ہے۔" ( ١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری شخصیت اور فکر و فن، ٣٥ )