قصابی
معنی
١ - قصّاب کا کام یا پیشہ۔ "ارے صاحب کتابت کرتے ہو یا قصابی کاغذ بالکل قیمہ قیمہ کر ڈالا۔" ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ١٢١ ) ٢ - جانور ذبح کرنے کی اجرت پر لگایا جانے والا ٹیکس۔ "قصابی جانور ذبح کرنے کی اجرت پر۔" ( ١٩٤٥ء، ذرایع محاصل سلطنت مغلیہ ہند، ٢٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ صفت 'قصاب' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے 'قصّابی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩١٥ء میں سجاد حسین کی کتاب "حاجی بغلول" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قصّاب کا کام یا پیشہ۔ "ارے صاحب کتابت کرتے ہو یا قصابی کاغذ بالکل قیمہ قیمہ کر ڈالا۔" ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ١٢١ ) ٢ - جانور ذبح کرنے کی اجرت پر لگایا جانے والا ٹیکس۔ "قصابی جانور ذبح کرنے کی اجرت پر۔" ( ١٩٤٥ء، ذرایع محاصل سلطنت مغلیہ ہند، ٢٣ )