قصبہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - چھوٹا شہر، بڑا گاؤں۔ "بارہمولہ جیسا قصبہ سنسان پڑا تھا اور شہرخموشاں کا منظر پیش کر رہا تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٤٢٥ ) ٢ - [ طب ]  نے، سرکنڈا، نرکل، نلی، ہوا کی نالی، نرخرہ۔ "ایک نوکر نے دھوکے سے اپنے گلے میں چھری مار لی اور اس سے اس کے ریہ کے بعض قصبہ کٹ گئے۔"      ( ١٩٤٧ء، جراحیاتِ زہراوی، ٨٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم جامد ہے۔ عربی سے اردو میں حقیقی ساخت و معنی کے ساتھ داخل ہوا اور اسم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چھوٹا شہر، بڑا گاؤں۔ "بارہمولہ جیسا قصبہ سنسان پڑا تھا اور شہرخموشاں کا منظر پیش کر رہا تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٤٢٥ ) ٢ - [ طب ]  نے، سرکنڈا، نرکل، نلی، ہوا کی نالی، نرخرہ۔ "ایک نوکر نے دھوکے سے اپنے گلے میں چھری مار لی اور اس سے اس کے ریہ کے بعض قصبہ کٹ گئے۔"      ( ١٩٤٧ء، جراحیاتِ زہراوی، ٨٥ )

جنس: مذکر