قصور

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کمی، کوتاہی۔ "عہد جدید کے "روشن خیال" نوجوان ترک بھی اس کی صحیح اہمیت سمجھنے میں قصور کر رہے ہیں۔"      ( ١٩٢٢ء، نقش فرنگ، ٧٤ ) ٢ - عجز،فروماندگی، نارسائی۔  افراط نازکی سے کمر بے مثال ہے یاں معترف قصور پہ چشم خیال ہے    ( ١٨٧٥ء، مونس، مراثی، ٨٨:٣ ) ٣ - خامی، نقص۔ "مُجھ میں کوئی قصور دیکھو تو آزادی سے مُجھ کو ٹوک دو۔"    ( ١٩١٦ء، محرم نامہ، حسن نظامی، ١٢ ) ٤ - خطا، غلطی، بھول چُوک۔ "شاید یہی بات ہو گی قصور میرا ہی ہو گا۔"    ( ١٩٨٢ء، دوسرا کنارہ، ٤٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کمی، کوتاہی۔ "عہد جدید کے "روشن خیال" نوجوان ترک بھی اس کی صحیح اہمیت سمجھنے میں قصور کر رہے ہیں۔"      ( ١٩٢٢ء، نقش فرنگ، ٧٤ ) ٣ - خامی، نقص۔ "مُجھ میں کوئی قصور دیکھو تو آزادی سے مُجھ کو ٹوک دو۔"    ( ١٩١٦ء، محرم نامہ، حسن نظامی، ١٢ ) ٤ - خطا، غلطی، بھول چُوک۔ "شاید یہی بات ہو گی قصور میرا ہی ہو گا۔"    ( ١٩٨٢ء، دوسرا کنارہ، ٤٧ )

اصل لفظ: قصر
جنس: مذکر