قطار
معنی
١ - صف، سلسلہ، پرا۔ "درختوں کی کوئی قطار ان کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی تھی۔" ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٣٧ ) ٢ - شمار۔ پیدل تو اس قطار کے تھے کس قطار میں دو دو سوار کٹ گئے ایک ایک وار میں ( ١٨٧٤ء، مراثی، انیس، ٩٦:٢ ) ٣ - زار کے ساتھ بطور تابع آکر بہت کے معنی دیتا ہے۔ "یہ بات سن کر وہ غم زدہ زار و قطار رونے لگی۔" ( ١٨٨٤ء، تذکرہ غوثیہ، ٢٠٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بوطر اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سےپ ہلے ١٦٨٧ء کو "کلیات غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - صف، سلسلہ، پرا۔ "درختوں کی کوئی قطار ان کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی تھی۔" ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٣٧ ) ٣ - زار کے ساتھ بطور تابع آکر بہت کے معنی دیتا ہے۔ "یہ بات سن کر وہ غم زدہ زار و قطار رونے لگی۔" ( ١٨٨٤ء، تذکرہ غوثیہ، ٢٠٢ )