قطر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ خط مسقیم، جو دائرے کے مرکز سے گزر کر اسے دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہوا اور محیط سے جاملے۔ "چھتری کے کناروں پر ٹینٹے کل ہوتے ہیں ان کا قطر ڈھائی میٹر تک ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، حیاتیات، ١٠٨ ) ٢ - کنارہ، طرف، سمت۔ "گرمی ایسی شدید کہ کسی قطر عالم میں اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔"      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ٢٥ )

اشتقاق

اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ عربی سے اردو میں معنی و ساخت کے اعتبار سے اصل حالت میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٥٤ء کو "مراۃ الاقالیم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ خط مسقیم، جو دائرے کے مرکز سے گزر کر اسے دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہوا اور محیط سے جاملے۔ "چھتری کے کناروں پر ٹینٹے کل ہوتے ہیں ان کا قطر ڈھائی میٹر تک ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، حیاتیات، ١٠٨ ) ٢ - کنارہ، طرف، سمت۔ "گرمی ایسی شدید کہ کسی قطر عالم میں اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔"      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ٢٥ )

اصل لفظ: قطر
جنس: مذکر