قل

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کہہ، بول۔ "قلقل کس قسم کی آواز کا نام ہے . کبھی کسی مکتب میں میانجی نے کسی لونڈے سے . دو دفعہ قل کہہ کر کسی بات کا جواب مانگا ہو گا یاروں نے وہی دونوں قل ملا کر ایک لفظ تراش لیا۔"      ( اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢١، ٤:١٩ ) ٢ - خاتمہ، اختتام، موت۔  فتح نادر خاں کو دی اللہ نے بچہ سقّا کا آخر قل ہوا      ( ١٩٢٩ء، بہارستان، ٣٤٠ ) ٣ - [ مجازا (بطور معرفہ) ]  قرآن شریف کی چار سورتیں جو لفظ "قُل" سے شروع ہوتی ہیں یعنی سورۂ کافرون، سورہ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ الناس۔ جو تیسویں پارے میں ہیں، انھیں چار قل بھی کہتے ہیں۔  قسم ہے قلقل مینائے مے کی گر زاہد دو قُل سُنے تو کبھی چار قُل نہ رکھے یاد      ( ١٨٧٧ء، کلیات حق، ٢٩٥ ) ٤ - فاتحہ، صوفی بزرگوں کے سالانہ فاتحہ کا دن، عرس، فاتحہ، سویم، تیجا، فاتحہ خوانی۔ "انہیں میں کسی مرنے والے کا قل ہے۔"      ( ١٩٢١ء، لخت جگر، ٤٣٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب مشتق صیغۂ امر ہے۔ عربی سے اردو میں معنی و ساخت کے حوالے سے اصل حالت میں داخل ہوا اور اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٣٨ء کو "چمنستان سخن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کہہ، بول۔ "قلقل کس قسم کی آواز کا نام ہے . کبھی کسی مکتب میں میانجی نے کسی لونڈے سے . دو دفعہ قل کہہ کر کسی بات کا جواب مانگا ہو گا یاروں نے وہی دونوں قل ملا کر ایک لفظ تراش لیا۔"      ( اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢١، ٤:١٩ ) ٣ - [ مجازا (بطور معرفہ) ]  قرآن شریف کی چار سورتیں جو لفظ "قُل" سے شروع ہوتی ہیں یعنی سورۂ کافرون، سورہ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ الناس۔ جو تیسویں پارے میں ہیں، انھیں چار قل بھی کہتے ہیں۔  قسم ہے قلقل مینائے مے کی گر زاہد دو قُل سُنے تو کبھی چار قُل نہ رکھے یاد      ( ١٨٧٧ء، کلیات حق، ٢٩٥ ) ٤ - فاتحہ، صوفی بزرگوں کے سالانہ فاتحہ کا دن، عرس، فاتحہ، سویم، تیجا، فاتحہ خوانی۔ "انہیں میں کسی مرنے والے کا قل ہے۔"      ( ١٩٢١ء، لخت جگر، ٤٣٣ )

اصل لفظ: قول
جنس: مذکر