قلاب

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - مچھلی پکڑنے کا خمدار آہنی کانٹا۔  جو سایہ شمشیر ظفریاب میں آیا ماہی کی طرح موت کے قلاب میں آیا      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٤٠١:١ ) ٢ - آنکڑا، حلقہ، کنڈا۔ "ایک سنگ سبز زمین میں نصب ہے قلاب اس پتھر میں لگا ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، طلسم ہوشربا، ٩٥١:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاث مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصلی معنی میں بطور اسم داخل ہوا۔ ١٧٨٠ء میں "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - آنکڑا، حلقہ، کنڈا۔ "ایک سنگ سبز زمین میں نصب ہے قلاب اس پتھر میں لگا ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، طلسم ہوشربا، ٩٥١:٣ )

اصل لفظ: قلب
جنس: مذکر