قلزم
قسم کلام: اسم معرفہ
معنی
١ - وہ سمندر جو عرب اور مصر کے درمیان واقع ہے۔ نہایت گہرا دریا، سمندر۔ قلزم زیست میں ایسے بھی بھنور آتے ہیں سینکڑوں ڈوبے ہوئے لوگ ابھر آتے ہیں ( ١٩٨٦ء، غبار ماہ، ١٨٠ ) ٢ - ایک شہر کا نام جو مصر و عرب کے درمیان سمندر کے کنارے پر بسا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کا نام بھی قلزم ہو گیا۔ (فرہنگ آصفیہ)۔
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم جامد ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر