قلق

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - رنج، الم، اندوہ، فکر۔ "اس شوخی و بے پروائی پر یک گونہ سا قلق ہوا۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٧٤ ) ٢ - بے قراری، بے آرامی، بے کلی، بیتابی۔ "ان کے دل پر عجیب بے چینی اور قلق کا عالم تھا۔"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٥٦:٢ ) ٣ - افسوس، حسرت، پچھتاوا۔ "مجھے آگے نہ جانے کا قلق ہوا۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ٢٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے عربی سے اردو میں اصل ساخت و معنی کے ساتھ داخل ہوا اور اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رنج، الم، اندوہ، فکر۔ "اس شوخی و بے پروائی پر یک گونہ سا قلق ہوا۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٧٤ ) ٢ - بے قراری، بے آرامی، بے کلی، بیتابی۔ "ان کے دل پر عجیب بے چینی اور قلق کا عالم تھا۔"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٥٦:٢ ) ٣ - افسوس، حسرت، پچھتاوا۔ "مجھے آگے نہ جانے کا قلق ہوا۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ٢٣ )

اصل لفظ: قلق
جنس: مذکر