قلندر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ تصوف ]  وہ شخص جو روحانی ترقی یہاں تک کر گیا ہو کہ اپنے وجود اور علائقِ دینوی سے بے خبر اور لاتعلق ہو کر ہمہ تن خدا کی ذات کی طرف متوجہ رہتا ہو اور تکلیفات رسمی کی قیود سے چھٹکارا پا گیا ہو، عشق حقیقی میں مست فقیر۔ "بحر ذخار . میں خاندان نبوت، صحابہ، خلفاء اور امامین کے حالات کے بعد نصیرالدین چراغ دہلوی، علی صابر کلیری، حضرت عبدالقادر جیلانی اور بعض قلندروں کے سوانحی حالات ہیں۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٩٧:٣ ) ٢ - دین و دنیا سے آزاد آدمی، رند، لااُبالی۔  ہم قلندر ہیں ہمارے واسطے حشمتِ جم و جاہِ کیوانی ہے کیا      ( ١٩٨٤ء، چاند پر بادل، ٢٧ ) ٣ - بے نوا، تہی دست آدمی۔  چاہیے زران بتانِ سیم تن کے واسطے یاں قلندر ہیں نہیں کوڑی کفن کے واسطے      ( ١٨٥٤ء، دیوانِ ذوق، ٢٤٧ ) ٤ - وہ فقیر جو سر اور ڈاڑھی منڈواتا ہے اور بیوی بچوں کو چھوڑ کر جابجا پھرتا ہے، جوگی۔  اک مست قلندر جوگی نے پربت پر ڈیرا ڈالا تھا! تھی راکھ جٹا میں جوگی کی اور انگ بھبوت رمائی تھی      ( ١٩٣٧ء، نغمہ فردوس، ٢٥:١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٥ء کو "جواہر اسراراللہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ تصوف ]  وہ شخص جو روحانی ترقی یہاں تک کر گیا ہو کہ اپنے وجود اور علائقِ دینوی سے بے خبر اور لاتعلق ہو کر ہمہ تن خدا کی ذات کی طرف متوجہ رہتا ہو اور تکلیفات رسمی کی قیود سے چھٹکارا پا گیا ہو، عشق حقیقی میں مست فقیر۔ "بحر ذخار . میں خاندان نبوت، صحابہ، خلفاء اور امامین کے حالات کے بعد نصیرالدین چراغ دہلوی، علی صابر کلیری، حضرت عبدالقادر جیلانی اور بعض قلندروں کے سوانحی حالات ہیں۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٩٧:٣ )

جنس: مذکر