قند

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - [ استعارۃ ]  نہایت شیریں۔ (ماخوذ: فرہنگ آصفیہ؛ نوراللغات) ١ - سفید دانے دار شکر، سفید شکر۔  خشک ٹکڑا تھا نانِ جویں کا مگر میں نے قند و نبات و عسل کر دیا      ( ١٩٨٠ء، خوشحال خان خٹک (ترجمہ)، ١٢١ ) ٢ - ایک دانے دار مٹھائی جو قند اور ماوے سے تیار کی جاتی ہے اور کونڈے وغیرہ میں جما کر قاشیں تراش لیتے ہیں، قلاقند۔ "آتے وقت کچھ قند اور نمکین بسکٹ ضرور لیتے آنا۔"      ( ١٨٩٩ء، مکتوبات حالی، ٢٧٢:٢ ) ٣ - پکے سُرخ رنگ کا ایک سوتی کپڑا، ٹول، شالباف، شالبانہ۔ "جس کے منہ پر ململ یا سُرخ قند لپٹا رہتا تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٥٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم جامد ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم و صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ایک دانے دار مٹھائی جو قند اور ماوے سے تیار کی جاتی ہے اور کونڈے وغیرہ میں جما کر قاشیں تراش لیتے ہیں، قلاقند۔ "آتے وقت کچھ قند اور نمکین بسکٹ ضرور لیتے آنا۔"      ( ١٨٩٩ء، مکتوبات حالی، ٢٧٢:٢ ) ٣ - پکے سُرخ رنگ کا ایک سوتی کپڑا، ٹول، شالباف، شالبانہ۔ "جس کے منہ پر ململ یا سُرخ قند لپٹا رہتا تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٥٨ )