قنوطی

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - قنوط سے منسوب، یاس پسندانہ نقطہ نظر رکھنے والا، نا امید، مایوس۔ "وہ آج کل بڑا قنوطی سا ہو گیا تھا۔"      ( ١٩٨٧ء، پھول پتھر، ١٨٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قنوط' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ نسبت ملانے سے صفت 'قنوطی' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٩٤٤ء میں "آدمی اور مشین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قنوط سے منسوب، یاس پسندانہ نقطہ نظر رکھنے والا، نا امید، مایوس۔ "وہ آج کل بڑا قنوطی سا ہو گیا تھا۔"      ( ١٩٨٧ء، پھول پتھر، ١٨٤ )

اصل لفظ: قنط