قوال
معنی
١ - گانے والا، صوفیانہ اور حقانی چیزیں یا کلام گانے والا، ایک مخصوص مقررہ انداز میں صوفیانہ اشعار سنانے والا۔ "رات آٹھ بجے قوال پہنچ گئے۔" ( ١٩٨٧ء، اک محشر خیال، ١٠٧ ) ١ - بسیارگو، بہت بولنے والا، خوش گو، خوش گفتار، شیریں زمان، مغنی، مطرب، نغمہ سرا، سرود خواں، ڈوم۔ (نوراللغات، فرہنگِ آصفیہ، جامع اللغات)
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں حقیقی معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گانے والا، صوفیانہ اور حقانی چیزیں یا کلام گانے والا، ایک مخصوص مقررہ انداز میں صوفیانہ اشعار سنانے والا۔ "رات آٹھ بجے قوال پہنچ گئے۔" ( ١٩٨٧ء، اک محشر خیال، ١٠٧ )