قوت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - حرکت و عمل کی اہلیت، توانائی، جسمانی زور، اقتدار، اختیار، مشکل کاموں کو انجام دینے کی قابلیت یا استطاعت، شکتی، سکت، توانائی، قدرت (کام کرسکنے کی قابلیت کا نام اصلاح میں قوت ہے) طاقت، زور، قوی ہونا، زبردست ہونا، صاحب زور ہونا۔ "فرمایا، کہ . قوت کا نشہ بڑا برا ہوتا ہے"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٥٥٣ ) ٢ - سہارا، مدد، اعانت، تقویت۔ "ملکہ بھی معشوقہ شہزادہ اسد فاتح طلسم کی ہو گی اور شہزادے کے نکاح میں آئے گی بحول و قوت الٰہی۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہو شربا، ٩٣٩:١ ) ٤ - کسی چیز کو محسوس کرنے کی قابلیت، حس، حاسہ۔ "پھر اگر قوت شم سے متمتع ہونے کو خیال میں لائے تو پوری وسعت تمتع اسلام کی رو سے اس کے پیرو کو حاصل ہے۔"      ( ١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ٣١:١ ) ٦ - وہ امر جس کے سبب کسی شے سے فعل یا افعال صادر ہو سکے، کسی امر یا فعل کی استعداد، امکان استعدادی۔ "افراد کے بعض مشاعر اور خیالات ایسے ہوتے ہیں جو صرف اس وقت قوت سے فعل میں آتے ہیں۔"      ( ١٩١٨ء، روح الاجتماع، ٦٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں اصل حالت میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٣ء کو "شرح تمہیدات ہمدانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حرکت و عمل کی اہلیت، توانائی، جسمانی زور، اقتدار، اختیار، مشکل کاموں کو انجام دینے کی قابلیت یا استطاعت، شکتی، سکت، توانائی، قدرت (کام کرسکنے کی قابلیت کا نام اصلاح میں قوت ہے) طاقت، زور، قوی ہونا، زبردست ہونا، صاحب زور ہونا۔ "فرمایا، کہ . قوت کا نشہ بڑا برا ہوتا ہے"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٥٥٣ ) ٢ - سہارا، مدد، اعانت، تقویت۔ "ملکہ بھی معشوقہ شہزادہ اسد فاتح طلسم کی ہو گی اور شہزادے کے نکاح میں آئے گی بحول و قوت الٰہی۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہو شربا، ٩٣٩:١ ) ٤ - کسی چیز کو محسوس کرنے کی قابلیت، حس، حاسہ۔ "پھر اگر قوت شم سے متمتع ہونے کو خیال میں لائے تو پوری وسعت تمتع اسلام کی رو سے اس کے پیرو کو حاصل ہے۔"      ( ١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ٣١:١ ) ٦ - وہ امر جس کے سبب کسی شے سے فعل یا افعال صادر ہو سکے، کسی امر یا فعل کی استعداد، امکان استعدادی۔ "افراد کے بعض مشاعر اور خیالات ایسے ہوتے ہیں جو صرف اس وقت قوت سے فعل میں آتے ہیں۔"      ( ١٩١٨ء، روح الاجتماع، ٦٠ )

اصل لفظ: قوی
جنس: مؤنث