قہر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - غلبہ، زبردستی، زور آوری، چیرہ دستی۔ (ماخوذ: فرہنگ آصفیہ؛ نوراللغات) ٢ - غضب، غصہ، خشم، طیش۔ "اس کے خائف ہونے کی یہ وجہ . قہر و جلال سلطانی اور ہیت اور غضب و درندگی شیر موجب خوف ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، تفسیر القرآن حکیم، مولانا شبیر احمد عثمانی، ١٠ ) ٣ - آفت، قیامت، شامت، مصیبت۔  کچھ اثر آہ میں جو پیدا ہو قہر ہو جائے حشر برپا ہو    ( ١٨٥٤ء، غنچۂ آرزو، ١١٨۔ ) ٤ - عذاب، غضب۔ "آج جس قہر کے نازل ہونے کا امکان ہے اس کی بنیاد بھی یہی ہے۔"    ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٣٤ ) ٥ - ظلم و ستم، ناانصافی، اندھیر۔ "کالج کو حکومت کے قہرسے بچانے کے لیے نواب محسن الملک نے آنریری سیکریٹری کے عہدے سے استعفٰی دے دیا۔"      ( ١٩٧٧ء، اردو ہندی تنازع، ٢٢٦ ) ٦ - افسوس، حیف، دریغ،غضب۔  کیا قہر ہے یارو، جسے آجائے بڑھاپا اور عیش جوانی کے تیئں کھائے بڑھاپا      ( ١٨٣٠ء، کلیات نظیر،٢، ١١١:٢ ) ١ - فتنہ، فتنہ پرواز۔  موٹے کمر وہ قہر ہیں زلفیں ہیں یہ بلا شوخی بھری ہوئی ہے تیرے بال بال میں      ( ١٨٥٨ء، دیوانِ امانت، ٥٧ ) ٢ - آفت کا پر کالہ، نہایت عیار، شوخ۔  قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو کاشکے تم میرے لیے ہوتے      ( ١٨٦٩ء، دیوانِ غالب، ٢٤٣ ) ٣ - قابل تحسین، قابل تعریف، نہایت خوبصورت۔  طفلی سے اور قہر ہوا وہ شباب میں تابش ہو دوپہر کو فزوں آفتاب میں      ( ١٨٤٦ء، کلیات آتش، ١١٠ ) ٤ - نہایت بدمزاج، تندمزاج، غصیل، خشمناک، کڑوا۔  چڑھی تیوری کبھی اس کی نہ اتری غضب ہے قہر ہے پیارا ہمارا      ( ١٨١٠ء، کلیات میر، ٦٧٢ ) ٦ - بُرا، نامناسب، ناگوار طبع۔  میں نے جو کچھ لکھا تو ہوا قہر کون سا پر لو قسم اگر ہو بجز انکسار خط      ( ١٨٤٤ء، ممنون (فرہنگ آصفیہ) ) ٧ - جوش۔ "نعوذ باللہ یو پانی اگر قہر میں آوے، دریا کوں ڈباوے۔"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٥١ ) ٩ - [ تصوف ]  تجلی جمالی کو کہتے ہیں، یہ ایک تائید حق ہے طالب کے واسطے جو طالب کو فانی کر کے سرحد فنا فی اللہ تک پہنچا دیتی ہے۔ (مصباح التعرف، 202) ١ - بے حد، ازحد، نہائیت (برائے کثرت)  منظور حق ہوا کہ ہو بے پردہ قتل عام کھینچی نہ تیغِ قہر بنایا حسین تجھے      ( ١٨٧٠ء، دیوان اسیر، ٢٦٥:٣ ) ٢ - بڑے غضب کا، قیامت کا۔  صابر کو بردباد سمجھ کر نہ چھیڑیے کہتے ہیں قہر ہوتا ہے غصہ حلیم کا      ( ١٨٨٢ء، صابر، ریاض صابر، ٩ ) ٣ - بڑے غضب کی بات، غضب، ظلم، ستم۔  کیا قہر ہے و قفہ ہے ابھی آنے میں ان کے اور دم میرا جانے میں تو توقف نہیں کرتا      ( ١٨٥٤ء، دیوانِ ذوق، ٧٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں حقیقی معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم، صفت اور گا ہے متعلق فعل استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - غضب، غصہ، خشم، طیش۔ "اس کے خائف ہونے کی یہ وجہ . قہر و جلال سلطانی اور ہیت اور غضب و درندگی شیر موجب خوف ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، تفسیر القرآن حکیم، مولانا شبیر احمد عثمانی، ١٠ ) ٤ - عذاب، غضب۔ "آج جس قہر کے نازل ہونے کا امکان ہے اس کی بنیاد بھی یہی ہے۔"    ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٣٤ ) ٥ - ظلم و ستم، ناانصافی، اندھیر۔ "کالج کو حکومت کے قہرسے بچانے کے لیے نواب محسن الملک نے آنریری سیکریٹری کے عہدے سے استعفٰی دے دیا۔"      ( ١٩٧٧ء، اردو ہندی تنازع، ٢٢٦ ) ٧ - جوش۔ "نعوذ باللہ یو پانی اگر قہر میں آوے، دریا کوں ڈباوے۔"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٥١ )

اصل لفظ: قہر
جنس: مذکر