قہوہ
معنی
١ - "کوفیا" نامی پودے کے بیچ جن کو بھون کر کیمیائی طریقے سے سفوف تیار کیا جاتا ہے اور مشروب کے طور پر پیا جاتا ہے۔ "قہوہ پی کر بیچولی چلی گئی دو دن بعد وہ پھر آئی اور بتایا کہ ایک اور گھر کے لوگ لڑکی دیکھنے آ رہے ہیں۔" ( ١٩٤٩ء، قومی زبان، کراچی، جون، ٧٧ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم جامد ہے۔ عربی سے اردو میں اصل حالت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - "کوفیا" نامی پودے کے بیچ جن کو بھون کر کیمیائی طریقے سے سفوف تیار کیا جاتا ہے اور مشروب کے طور پر پیا جاتا ہے۔ "قہوہ پی کر بیچولی چلی گئی دو دن بعد وہ پھر آئی اور بتایا کہ ایک اور گھر کے لوگ لڑکی دیکھنے آ رہے ہیں۔" ( ١٩٤٩ء، قومی زبان، کراچی، جون، ٧٧ )