قیافہ
معنی
١ - وہ اندازہ جو شکل، صورت، حرکات و سکنات یا کسی علامت یا شگون سے لگایا جائے، اٹکل۔ "بھاوج قیافہ اور شبہ پر کہہ رہی تھی مگر عبدو کے کان بھی سن رہے تھے۔" ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٦٠ ) ٢ - وہ علم جس میں چہرے مہرے وغیرہ کے خط و خال و علامات سے بھلا بُرا شگون لینے اور صاحب علامات کے اقوال و افعال و احوال سے بحث کرتے ہیں، مالی۔ تھا آپ کے قیافے پہ اول سے آشکار غیرت پہ اپنی ہو گئی آخر کو وہ نثار ( ١٩٨٤ء، قہر عشق، ٤٨١ ) ٣ - فال، شگون۔ "یہاں تک کہ شعبدے اور نیرنگ جات، قیافہ و فال اکسیر و کیمیا . ان لغویات سے بھی بے پروائی نہ کی۔" ( ١٩٩٨ء، مقالات شبلی، ٦، ٨٣ ) ٤ - شناخت، پہچان، ادراک۔ "ہوشمند وہی ہے کہ ہر ایک بات قیافے اور رمز کنائے اور ہونٹھ ہلنے سے پہلے دریافت کر جاوے۔" ( ١٨٢٤ء، سیر عشرت، ٣٧ ) ٥ - عقل، سوجھ بوجھ، تمیز۔ "میں نے تو اسے آپ صاحبوں کے قیافے پر چھوڑ دیا تھا۔" ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٣٥ ) ٦ - چہرہ مہرہ، شکل و صورت کے قرائن وغیرہ۔ تیرے نفس کی خوشبو صد رشک مشک نافہ تیری جبیں درخشاں روشن ترا قیافہ ( ١٩٧٥ء، خروش خم، ٤٨ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم ہے اصلی معنی اور حالت میں اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٢ء میں "طلسم ہوشربا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وہ اندازہ جو شکل، صورت، حرکات و سکنات یا کسی علامت یا شگون سے لگایا جائے، اٹکل۔ "بھاوج قیافہ اور شبہ پر کہہ رہی تھی مگر عبدو کے کان بھی سن رہے تھے۔" ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٦٠ ) ٣ - فال، شگون۔ "یہاں تک کہ شعبدے اور نیرنگ جات، قیافہ و فال اکسیر و کیمیا . ان لغویات سے بھی بے پروائی نہ کی۔" ( ١٩٩٨ء، مقالات شبلی، ٦، ٨٣ ) ٤ - شناخت، پہچان، ادراک۔ "ہوشمند وہی ہے کہ ہر ایک بات قیافے اور رمز کنائے اور ہونٹھ ہلنے سے پہلے دریافت کر جاوے۔" ( ١٨٢٤ء، سیر عشرت، ٣٧ ) ٥ - عقل، سوجھ بوجھ، تمیز۔ "میں نے تو اسے آپ صاحبوں کے قیافے پر چھوڑ دیا تھا۔" ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٣٥ )