قید
معنی
١ - اسیری، حبس، قبضہ، گرفت۔ "خوشی کے ساتھ غم اور آزادی کے ساتھ قید وابستہ ہے۔" ( ١٩١٩ء، جوہر قدامت، ٦٢ ) ٢ - [ مجازا ] زنداں، جیل خانہ "میرے باپ نے مجھکو قید میں ڈال دیا ہے۔" ( ١٨٩٤ء، رسالہ تہذیب الاخلاق، ٧٠ ) ٣ - بندش، گرفتاری۔ "اے شہنشاہ ساحران ہم عمرو کی قید کی حفاظت نہیں کر سکتے۔" ( ١٩٠٠ء، طلسم خیال سکندری، ٤٨:٢ ) ٤ - روک، ممانعت، بندی۔ "عورت کے دل میں غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ کمزوری پیدا ہوتی ہے اور قید پیدا ہوتی ہے۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٩ ) ٥ - شرط، پابندی، امر لازم، لازمہ۔ "عرب میں قافیوں کی قید موجود تھی۔" ( ١٩٨٧ء، نگار، کراچی، اکتوبر، ١٥ ) ٦ - بیڑی "ایک کو زمین کھود کر زندہ دفن کیا دوسرے کو . قید پنہا کر وہیں چھوڑا۔" ( ١٩٠٨ء، آفتاب شجاعت، ٥، ٥٩٩:١ ) ٧ - اسیر، گرفتار، محبوس، بند۔ بیڑیاں پہنیں تھیں میں نے تم نے کیوں پردہ رکھا گنبدوں میں قید آوازوں کو چکھنا چاہیے ( ١٩٨١ء، ملامتوں کے درمیان، ٥٣ ) ٩ - [ عروض ] وہ ساکن حرف (سوائے حروفِ مدہ کے) جو بے فاصلہ حروف روی سے پہلے آئے، جیسے: بخت و تخت میں خ اور صدرو قدر میں دال۔ "اصطلاح میں حرف مدہ کے علاوہ جو حرف بغیر کسی حرف واسطہ کے روی کے پہلے آئے اسے حرف قید کہتے ہیں۔" ( ١٩٣٩ء، میزان سخن، ١٣٢ ) ١٠ - ضبط۔ "یہ کثرت اس امر کی مقتضی تھی کہ احادیث کو قید کتابت اور ضبط تحریر میں لایا جائے۔" ( ١٩٧٣ء، بینات، کراچی، فروری، ١٩ ) ١١ - [ موسیقی ] ایک تال کا نام، یہ چار ضرب کی ہے لیکن بعض پانچ کی اور بعض سات کی بھی بتاتے ہیں۔ "سترہ تالیں مطابق اوزان عجمی . پشتو، ذوبحر قوالی، سول فاختہ، جت تتالہ، سواری . فرودست قید، پہلوان، پٹ تال، چیک تال۔" ( ١٩٦٠ء، حیات امیر خسرو، ١٩١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں حقیقی معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٥ء کو "جواہر اسراراللہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اسیری، حبس، قبضہ، گرفت۔ "خوشی کے ساتھ غم اور آزادی کے ساتھ قید وابستہ ہے۔" ( ١٩١٩ء، جوہر قدامت، ٦٢ ) ٢ - [ مجازا ] زنداں، جیل خانہ "میرے باپ نے مجھکو قید میں ڈال دیا ہے۔" ( ١٨٩٤ء، رسالہ تہذیب الاخلاق، ٧٠ ) ٣ - بندش، گرفتاری۔ "اے شہنشاہ ساحران ہم عمرو کی قید کی حفاظت نہیں کر سکتے۔" ( ١٩٠٠ء، طلسم خیال سکندری، ٤٨:٢ ) ٤ - روک، ممانعت، بندی۔ "عورت کے دل میں غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ کمزوری پیدا ہوتی ہے اور قید پیدا ہوتی ہے۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٩ ) ٥ - شرط، پابندی، امر لازم، لازمہ۔ "عرب میں قافیوں کی قید موجود تھی۔" ( ١٩٨٧ء، نگار، کراچی، اکتوبر، ١٥ ) ٦ - بیڑی "ایک کو زمین کھود کر زندہ دفن کیا دوسرے کو . قید پنہا کر وہیں چھوڑا۔" ( ١٩٠٨ء، آفتاب شجاعت، ٥، ٥٩٩:١ ) ٩ - [ عروض ] وہ ساکن حرف (سوائے حروفِ مدہ کے) جو بے فاصلہ حروف روی سے پہلے آئے، جیسے: بخت و تخت میں خ اور صدرو قدر میں دال۔ "اصطلاح میں حرف مدہ کے علاوہ جو حرف بغیر کسی حرف واسطہ کے روی کے پہلے آئے اسے حرف قید کہتے ہیں۔" ( ١٩٣٩ء، میزان سخن، ١٣٢ ) ١٠ - ضبط۔ "یہ کثرت اس امر کی مقتضی تھی کہ احادیث کو قید کتابت اور ضبط تحریر میں لایا جائے۔" ( ١٩٧٣ء، بینات، کراچی، فروری، ١٩ ) ١١ - [ موسیقی ] ایک تال کا نام، یہ چار ضرب کی ہے لیکن بعض پانچ کی اور بعض سات کی بھی بتاتے ہیں۔ "سترہ تالیں مطابق اوزان عجمی . پشتو، ذوبحر قوالی، سول فاختہ، جت تتالہ، سواری . فرودست قید، پہلوان، پٹ تال، چیک تال۔" ( ١٩٦٠ء، حیات امیر خسرو، ١٩١ )