قیس
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - لیلٰی کے عاشق کا نام جو قبیلہ عامر سے تھا، مجنوں۔ صحرا کی طرف شہر سے لائے گئے کچھ لوگ عاشق بھی نہ تھے قیس بنائے گئے کچھ لوگ ( ١٩٨٨ء، آنگن میں سمندر، ١١٢ ) ٢ - [ مجازا ] دیوانہ، عاشق۔ قیس کے قیس جاتے ہیں لیکن وحشی ہوں آدمی کے جنگل کا ( ١٨١٦ء، دیوان ناسخ، ١٦:١ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم جامد ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٦ء کو "دیوان ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر