قیصری

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - قیصر کا، شاہی۔ "اس کے ہمراہی دربار قیصری سے نکلے ہیں تو کسی کے حواس بجا نہ تھے۔"      ( ١٩١٩ء، جویائے حق، ٢٤٩:٢ ) ٢ - ملوکیت، بادشاہی۔ "قیصر روم اور ان کی قیصری نہ جانے کب کی ختم ہو چکی لیکن یہ کم عمر چھوکرے آج بھی ہمیں دیوانوں کی طرح پوجتے۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا، ١، ٢٣٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قیصر' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ نسبت ملانے سے 'قیصری' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٩٣٧ء میں "ستہ شمسیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قیصر کا، شاہی۔ "اس کے ہمراہی دربار قیصری سے نکلے ہیں تو کسی کے حواس بجا نہ تھے۔"      ( ١٩١٩ء، جویائے حق، ٢٤٩:٢ ) ٢ - ملوکیت، بادشاہی۔ "قیصر روم اور ان کی قیصری نہ جانے کب کی ختم ہو چکی لیکن یہ کم عمر چھوکرے آج بھی ہمیں دیوانوں کی طرح پوجتے۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا، ١، ٢٣٨ )

اصل لفظ: قَیصَر