لاج

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - حیا، شرم، لحاظ، غیرت، حجاب، عار۔ "نوج ایسی لاج بھی کیا!۔"    ( ١٩٤٢ء، سیلاب و گرداب، ١٥ ) ٢ - شرمندگی، خجالت۔ (جامع اللغات)۔ ٣ - عزت، آبرو، ناموس، حرمت۔  تو ہر ایک دکھ کا علاج ہے، ترا نام عشق کی لاج ہے تو ہی دل زدوں کا ہے مدعا، تو ہی غم زدوں کا ہے آسرا      ( ١٩٨٤ء، مرے آقا، ٢٠ )

اشتقاق

اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے۔ اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حیا، شرم، لحاظ، غیرت، حجاب، عار۔ "نوج ایسی لاج بھی کیا!۔"    ( ١٩٤٢ء، سیلاب و گرداب، ١٥ )