لادنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - (جانور، گاڑی، چھکڑے یا آدمی وغیرہ پر) سامان وغیرہ رکھنا، بہت سا بوجھ رکھنا۔ "اسے چٹائی سمیت جس پر وہ سور رہا تھا اونٹ پر لاد دیا۔"      ( ١٩٤٠ء، الف لیلہ و لیلہ، ٤٥٢:١ ) ٢ - (کھیت وغیرہ ذخیرے کی جگہ سے) منڈی میں بھیجنا۔ "کاشت کار طرف پسند کرنے زمین اور بیج اور تردد اور طیاری اور باندھنے و لادنے تنباکو . توجہ تام مصروف کریں۔"      ( ١٨٤٥ء، مزید الاموال، ١٢٦ ) ٣ - [ مجازا ]  کسی کے ذمے عائد کرنا، سر تھوپنا، زبردستی ٹھونسنا۔ "نہ کوئی لفظ معنی پر لادا گیا ہے اور نہ معنی لفظ پر لادے گئے ہیں۔"      ( ١٩٧٩ء، اردو ادب میں سفر نامہ، ٢٧٣ ) ٥ - [ ٹھگی ]  پھانسی دینا۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 202:8)

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'لاد' کے ساتھ 'نا' بطور لاحقۂ مصدر لگانے سے 'لادنا' بنا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (جانور، گاڑی، چھکڑے یا آدمی وغیرہ پر) سامان وغیرہ رکھنا، بہت سا بوجھ رکھنا۔ "اسے چٹائی سمیت جس پر وہ سور رہا تھا اونٹ پر لاد دیا۔"      ( ١٩٤٠ء، الف لیلہ و لیلہ، ٤٥٢:١ ) ٢ - (کھیت وغیرہ ذخیرے کی جگہ سے) منڈی میں بھیجنا۔ "کاشت کار طرف پسند کرنے زمین اور بیج اور تردد اور طیاری اور باندھنے و لادنے تنباکو . توجہ تام مصروف کریں۔"      ( ١٨٤٥ء، مزید الاموال، ١٢٦ ) ٣ - [ مجازا ]  کسی کے ذمے عائد کرنا، سر تھوپنا، زبردستی ٹھونسنا۔ "نہ کوئی لفظ معنی پر لادا گیا ہے اور نہ معنی لفظ پر لادے گئے ہیں۔"      ( ١٩٧٩ء، اردو ادب میں سفر نامہ، ٢٧٣ )

اصل لفظ: لاد