لاف

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - شیخی، ڈینگ، خودستائی، بکواس۔  جب خودی صورت گرِ ذوق تماشائی ہوئی ہر نگاہ شوق گرمِ لافِ یکتائی ہوئی      ( ١٩٣٥ء، ناز، گلدستۂ ناز، ١٦٥ ) ٢ - ضد، زورا، زوری، اکڑ۔  سخت سے عبث لاف ہے خونخواروں کو منہ پہ پھر جاتے ہوئے دیکھا ہے تلواروں کو      ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٦٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو زبان میں بطورر اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔