لایزال

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ہمیشہ رہنے والا، بے زوال، پائدار، قدیم، ازلی و ابدی (عوماً خدا تعالٰی کے لیے مستعمل)۔ "ایک معمولی مکھی بھی خدائے لایزال کی رحمتوں سے نوازی گئی۔"      ( ١٩٨٧ء، طواسین اقبال، ٣٥:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت 'یزال' کے ساتھ عربی حرف نفی 'لا' بطور لاحقہ لگانے سے مرکب 'لایزال' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہمیشہ رہنے والا، بے زوال، پائدار، قدیم، ازلی و ابدی (عوماً خدا تعالٰی کے لیے مستعمل)۔ "ایک معمولی مکھی بھی خدائے لایزال کی رحمتوں سے نوازی گئی۔"      ( ١٩٨٧ء، طواسین اقبال، ٣٥:١ )