لبریز

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - لبالب، کناروں تک بھرا ہوا، مونہاموں، پُر، معمور۔ "ملت اسلامیہ کے سلسلے میں جب ان سے گفتگو ہوئی، ان کے خیالات اور باتوں کی مسلمانوں میں زبوں حالی کے درد سے لبریز پایا۔"      ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ١١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لبالب، کناروں تک بھرا ہوا، مونہاموں، پُر، معمور۔ "ملت اسلامیہ کے سلسلے میں جب ان سے گفتگو ہوئی، ان کے خیالات اور باتوں کی مسلمانوں میں زبوں حالی کے درد سے لبریز پایا۔"      ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ١١ )