لت

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - آلودہ، بھرایا لتھڑا ہوا۔ "پھٹکری کا مرہم روئی میں لت کر کے زخم کے اندر رکھ کر زخم میں ٹانکے لگاؤ۔"      ( ١٩٢٥ء، محب المواشی، ٢٣ ) ١ - بری عادت جو جڑ پکڑے، راسخ عادت، لپکا، دھت۔ "کتب بینی کا یہ ذوق، ذوق سے بڑھ کر لت اور بیماری کی حد تک پہنچ گیا تھا۔"      ( ١٩٨٣ء، کاروان زندگی، ٥٧ )

اشتقاق

اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم اور گا ہے بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آلودہ، بھرایا لتھڑا ہوا۔ "پھٹکری کا مرہم روئی میں لت کر کے زخم کے اندر رکھ کر زخم میں ٹانکے لگاؤ۔"      ( ١٩٢٥ء، محب المواشی، ٢٣ ) ١ - بری عادت جو جڑ پکڑے، راسخ عادت، لپکا، دھت۔ "کتب بینی کا یہ ذوق، ذوق سے بڑھ کر لت اور بیماری کی حد تک پہنچ گیا تھا۔"      ( ١٩٨٣ء، کاروان زندگی، ٥٧ )