لتاڑ
معنی
١ - لاتیں ماری جانے کا کام؛ مراد: لعنت ملامت، سرزنش۔ میں سوچتا ہوں کہاں نعرہ سیاسی میں جو تازیانہ ہمّت تری لتاڑ میں ہے ( ١٩٥٩ء، گلِ نغمہ، فراق، ٢٦٩ ) ٢ - تکلیف، دکھ، مصیبت۔ "رہا سہا دم موجودہ تہذیب کی لتاڑ سے نکل جائے گا۔" ( ١٩٣٦ء، مضامین فلک پیما، ٢٠٧ ) ٣ - فضیحتی، رُسوائی۔ "مقصود ان معلومات پر عمل کرنا نہیں ہوتا بلکہ دوسروں پر اپنی قابلیت کا سکہ جمانا ہوتا ہے یا پھر دوسروں کی لتاڑ کرنا۔" ( ١٩٥٤ء، اکبرنامہ، عبدالماجد، ١٢٦ ) ٤ - کام کی مارا مار، لے دے، زیادتی، بھاگ دوڑ، دوڑ و دھوپ۔ "ہر وقت کی فضیحتی، اور رات دن کی لتاڑ بھلی چنگی ماما کا جی اچاٹ کر دیتی ہے۔" ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشاء، ٤٦ ) ٥ - رو ندن، پامالی۔ کریں رقم ہم اگر حال پائمالئی دل رہے ہمیشہ قلم کی لتاڑ میں کاغذ ( ١٨٤٥ء، کلیات ظفر، ٩٠:١ ) ٦ - کٹار، چھوٹی شمشیر۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 203:8)
اشتقاق
ہندی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٤ء کو "لوزتن" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - تکلیف، دکھ، مصیبت۔ "رہا سہا دم موجودہ تہذیب کی لتاڑ سے نکل جائے گا۔" ( ١٩٣٦ء، مضامین فلک پیما، ٢٠٧ ) ٣ - فضیحتی، رُسوائی۔ "مقصود ان معلومات پر عمل کرنا نہیں ہوتا بلکہ دوسروں پر اپنی قابلیت کا سکہ جمانا ہوتا ہے یا پھر دوسروں کی لتاڑ کرنا۔" ( ١٩٥٤ء، اکبرنامہ، عبدالماجد، ١٢٦ ) ٤ - کام کی مارا مار، لے دے، زیادتی، بھاگ دوڑ، دوڑ و دھوپ۔ "ہر وقت کی فضیحتی، اور رات دن کی لتاڑ بھلی چنگی ماما کا جی اچاٹ کر دیتی ہے۔" ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشاء، ٤٦ )