لحاظ
معنی
١ - (کوئی بات یا امر) نگاہ میں رکھنے کا عمل، خیال، دھیان، توجہ۔ "ذاتی طور پر مجھے آپ کے خیال سے اتفاق ہے مگر یہ باتیں بھی قابل لحاظ ہیں۔" ( ١٩٠٦ء، تاریخ نثر اردو، ٦٠٢:١ ) ٢ - پاسداری، رعایت، مروت، پاس ادب، حفظ مراتب۔ "مزمل اب بھی جلوت و خلوت میں ان سے لحاظ برتتا تھا۔" ( ١٩٨١ء، چلتا مسافر، ١٥٩ ) ٣ - شرم، حیا، غیرت، حمیت۔ آئینے سے ان کو شرم آنے لگی وہ انوکھے ہیں انوکھا ہے لحاظ ( ١٩٣٦ء، شعاع مہر، ناراپن پرشاد ورما، ٥٨ ) ٤ - (کسی سے) پردہ، حجاب، شرم۔ "لحاظ . کے معنی شرم اور جھجھک کے ہیں اور ان معنوں میں یہ خالص اردو کا لفظ ہے۔" ( ١٩٨٨ء، اردو، کراچی، جولائی تا ستمبر، ٧٤ ) ٥ - جھجھک (دل کی بات کہنے میں)، رکاوٹ، تکلف وغیرہ (کسی کام کے کرنے میں)۔ لحاظ ہو تو کنول کب دلوں کے کھلتے ہیں بس اس طرح سے ملو جیسے دوست ملتے ہیں ( ١٩١٧ء، رشید (پیارے صاحب)، گلزار رشید، ٧٦ ) ٦ - حیثیت، اعتبار (اکثر سے کے ساتھ)۔ "ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو عشق ایک دیوانہ پن ہی تو ہے۔" ( ١٩٨٨ء، غالب آشفتہ نوا، ٤٨ ) ٧ - نگاہ کرنا، دیکھنا، توجہ، غور و فکر۔ "اس شعر کی بلاغت پر لحاظ کرو۔" ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم، ٩٩:٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩١ء کو "کلیات حسرت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (کوئی بات یا امر) نگاہ میں رکھنے کا عمل، خیال، دھیان، توجہ۔ "ذاتی طور پر مجھے آپ کے خیال سے اتفاق ہے مگر یہ باتیں بھی قابل لحاظ ہیں۔" ( ١٩٠٦ء، تاریخ نثر اردو، ٦٠٢:١ ) ٢ - پاسداری، رعایت، مروت، پاس ادب، حفظ مراتب۔ "مزمل اب بھی جلوت و خلوت میں ان سے لحاظ برتتا تھا۔" ( ١٩٨١ء، چلتا مسافر، ١٥٩ ) ٤ - (کسی سے) پردہ، حجاب، شرم۔ "لحاظ . کے معنی شرم اور جھجھک کے ہیں اور ان معنوں میں یہ خالص اردو کا لفظ ہے۔" ( ١٩٨٨ء، اردو، کراچی، جولائی تا ستمبر، ٧٤ ) ٦ - حیثیت، اعتبار (اکثر سے کے ساتھ)۔ "ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو عشق ایک دیوانہ پن ہی تو ہے۔" ( ١٩٨٨ء، غالب آشفتہ نوا، ٤٨ ) ٧ - نگاہ کرنا، دیکھنا، توجہ، غور و فکر۔ "اس شعر کی بلاغت پر لحاظ کرو۔" ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم، ٩٩:٢ )