لحد
معنی
١ - قبر کا وہ حصہ جس میں مردہ رکھا جاتا ہے، صندوق، بغلی، قبر، مزار۔ "نغمی رونے لگا، میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا دیا، لحد تیار تھی۔" ( ١٩٨٨ء، یادوں کے گلاب، ٣٢٦ ) ٢ - وہ کم گہرا گڑھا جو گھر وغیرہ میں مردے کو نہلانے کے لیے کھودا جائے۔ "لحد کھدوائی گئی، نہلانے کے تختے کو لوبان یا اگر کی دھونی دی گئی۔" ( ١٩٠٥ء، رسوم دہلی، سرسید احمد دہلوی، ١٠٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قبر کا وہ حصہ جس میں مردہ رکھا جاتا ہے، صندوق، بغلی، قبر، مزار۔ "نغمی رونے لگا، میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا دیا، لحد تیار تھی۔" ( ١٩٨٨ء، یادوں کے گلاب، ٣٢٦ ) ٢ - وہ کم گہرا گڑھا جو گھر وغیرہ میں مردے کو نہلانے کے لیے کھودا جائے۔ "لحد کھدوائی گئی، نہلانے کے تختے کو لوبان یا اگر کی دھونی دی گئی۔" ( ١٩٠٥ء، رسوم دہلی، سرسید احمد دہلوی، ١٠٧ )