لحظہ
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - کن انکھیوں سے دیکھنے کا وقفہ، مراد: آن واحد، دم کے دم۔ "زندگی ہر لحظہ نیا طور نئی برق تجلی ہے۔" ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ٥١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم اور گا ہے بطور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کن انکھیوں سے دیکھنے کا وقفہ، مراد: آن واحد، دم کے دم۔ "زندگی ہر لحظہ نیا طور نئی برق تجلی ہے۔" ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ٥١ )
اصل لفظ: لحظ
جنس: مذکر