لرز

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - لرزنے کی کیفیت، لرزش، تھرتھراہٹ، کپکپاہٹ۔ "آواز میں ایک قسم کی لرز تھی جو دلوں میں لرزش پیدا کرتی تھی۔"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، آغا حیدر حسن، ٢٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ فعل 'لرزنا' کا حاصل مصدر 'لرز' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٢٨ء کو "پس پردہ' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لرزنے کی کیفیت، لرزش، تھرتھراہٹ، کپکپاہٹ۔ "آواز میں ایک قسم کی لرز تھی جو دلوں میں لرزش پیدا کرتی تھی۔"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، آغا حیدر حسن، ٢٢ )

جنس: مؤنث